2 مارچ 2014 - 20:30
حامد کرزئی کی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان کے خلاف جنگ اپنے اور مغربی مفاد کے تحت شروع کی تھی۔

ابنا: صدر حامد کرزئی نے کہا القاعدہ حقیقت سے زیادہ فسانہ ہے اور امریکہ نے اکثر بے قصور لوگوں کو افغانستان اور گوانتامو کی جیلوں میں قیدی بنا کر رکھا۔افغان صدر نے کہا، افغانستان میں گذشتہ 12 سال سے جاری جنگ امریکی اور مغربی مفادات کے لیے تھی، جسمیں بڑی تعداد میں افغانستان کے عوام مارے گئے، یہ ہماری جنگ نہیں تھی۔دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ میں 2000 سے زیادہ جانیں گنوائی ہیں جبکہ 600 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں۔امریکی حکام افغان صدر سے اس لیے بھی بہت زیادہ ناراض ہیں کیونکہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔امریکہ اس سیکورٹی معاہدے کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں رہنا اور فوجی کارروائیاں جاری رکھنا چاہتا ہے۔حامد کرزئی کی جانب سے سیکورٹی معاہدے پر دستخط سے انکار کے بعد اب امریکی حکام اپریل میں منتخب ہونے والے نئے صدر سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ ......./169